سعودی عرب کی قومی کمیٹی برائے حج وعمرہ کے نائب سربراہ ہانی بن علی العمیری نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ سال عمرہ زائرین کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’حج وعمرہ پرکام کرنے والے تمام ادارے اس ہدف کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں‘۔
ہانی بن علی العمیری نے بتایا کہ ’بیرون ملک ایجنٹوں کو تیار کیا گیا ہے جبکہ تمام غیر ملکی ایجنٹوں کو آن لائن سسٹم سے جوڑ دیا گیا ہے۔گروپوں میں میں آنے والوں کے لیے ’B2B‘ نظام متعارف کرایا گیا ہے جبکہ انفرادی طور پر آنے والے ’B2C‘ نظام سے جوڑ دیئے جائیں گے۔ اندرون ملک عمرہ زائرین کی خدمت کے لیے 500 کمپنیاں کام کریں گی جن میں تربیت یافتہ افراد بھرتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا ہے کہ ’وزارت حج سے اجازت یافتہ دو ہزار سے زیادہ ایجنٹوں کو اجازت نامہ جاری ہوا ہے جو تمام ممالک میں کام کریں گے۔ اسی طرح وزارت حج و عمرہ کی نگرانی میں 34 پورٹل سے عمرہ پیکیجز اور خدمات متعارف ہوں گے۔ عمرہ پیکیجز خریدنے کے لیے ویزا اور ماسٹر کارڈ کے علاوہ چند بینکوں کو ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ عمرہ زائرین کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 68 کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے جن کی جدید بسوں کے ذریعہ زائرین کو منتقل کیا جائے گا‘۔
انہوں نے کہا ہے کہ ’مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں 1900 ہوٹلوں کو بھی تیار کیا گیا ہے جو مختلف کیٹگریز میں رہائش کی سہولتیں فراہم کریں گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ عمرہ موسم کا آغاز یکم محرم الحرام 1444ھ سے ہو گا‘۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان