(FILES) In this file photo taken on May 08, 2018, people arrive at the domestic terminal of the Hamid Karzai International Airport in Kabul. - The US on June 17, 2021, hailed what it said was a promise from Turkey in talks with President Joe Biden to secure Kabul's airport once US forces leave. (Photo by Dominique FAGET / AFP)
متحدہ عرب امارات، ترکی اور قطر کے ساتھ مہینوں سے جاری گفتگو کے بعد افغان حکومت کے قائم مقام نائب وزیر اعظم کے گروپ نے اعلان کیا ہے کہ یو اے ای کے ساتھ معاہدے پر دستخط کریں گے تاکہ وہ افغانستان میں ایئرپورٹ کے معاملات چلا سکیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ملا عبدالغنی برادر نے اس معاملے کا اعلان ٹوئٹر کے ذریعے کیا تھا اور بعد ازاں کابل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ یو اے ای کے ساتھ معاہدے کے ذریعے ایئرپورٹ کی تجدید کرنے جارہی ہے۔
یہ بات اب تک واضح نہیں ہے کہ کیا کہ معاہدہ انتظامات کی حد تک ہے یا اس میں ایئرپورٹ کی سیکیورٹی بھی شامل ہے، سیکیورٹی طالبان کے لیے ایک حساس مسئلہ ہے جنہوں نے دہائیوں تک امریکی زیر قیادت نیٹو افواج سے جنگ لڑی اور کہا ہے کہ ہم بین الاقوامی افواج کی واپسی نہیں چاہتے۔
یو اے ای کی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر معاملے پر تبصرہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع نے مذاکرات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ قطر کے ساتھ مذاکرات کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ دوحہ کی شرط پر قطری سیکیورٹی کے اہلکار ایئرپورٹ پر موجود رہیں گے۔
ترکی اور قطر نے گزشتہ سال کے وسط میں غیر ملکی افواج کے انخلا پر طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہوائی اڈے کی کارروائیوں اور سیکیورٹی میں مدد کے لیے عارضی تکنیکی ٹیمیں بھیجی تھیں۔
ایئرپورٹ سے متعلق ہونے والی گفتگو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ممالک افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ سخت گیر گروپ کی حکومت کو کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔
ذرائع نے گزشتہ سال گفتگو کے آغاز کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یو اے ای، قطر کے سفارتی تسلط کا مقابلہ کرنے کے خواہاں ہیں۔
قطر اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات برسوں سے کشیدہ رہے ہیں کیونکہ وہ علاقائی اثر و رسوخ میں ایک دوسرے کے مدِمقابل ہیں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام