قابض اسرائیلی فورسز نے ایک بار پھر مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 17 نمازی شدید زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نماز فجر کے فوری بعد مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس کے اہلکار ایک بار پھر داخل ہوگئے اور عبادت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔
نمازیوں کے احتجاج کرنے پر اسرائیلی پولیس کے اہلکاروں نے بزرگوں تک کو تشدد کا نشانہ بنایا، آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ہوئی فائرنگ بھی کی۔ درجن سے زائد مسلمانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ اتوار کے روز یہودی اپنی عبادت کے لیے آتے ہیں۔ آج بھی کافی تعداد میں یہودی آئے ہوئے تھے جن پر نمازیوں نے پتھر پھینکے اور جملے کسے۔
اسرائیلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ نمازیوں کو ایسا نہ کرنے سے منع کرنے پر بے جا احتجاج شروع کردیا گیا جس پر اپنے دفاع میں پولیس کو بھی جوابی کارروائی کرنا پڑی۔
واضح رہے کہ جمعے کے روز بھی نماز فجر میں اسرائیلی فوج نے نمازیوں کو بلاجواز تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس میں 152 نمازی زخمی ہوگئے تھے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…