اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جھڑپ کے دوران میں ایک فلسطینی کوگولی مار کر شہید کردیا ہے۔ اسرائیلی فوجی غربِ اردن میں واقع ایک گاؤں میں ایک مبیّنہ حملہ آور کے مکان کو مسمارکرنے کے لیے پہنچے تھے اورانھیں فلسطینیوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق اتوار کی رات دیرگئے اسرائیلی فوجی غربِ اردن میں واقع گاؤں سیلات الحارثیہ پہنچے تھے اوروہ ایک یہودی کے قتل کے الزام میں گرفتارایک فلسطینی کا مکان مسمارکرنا چاہتے تھے۔اس فلسطینی کو 16 دسمبر کو ہمیش کی یہودی چوکی کے قریب ایک کارپر فائرنگ کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور اس پر قتل کا الزام عاید کیا گیا ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی جب مکان مسمار کرنے لگے تو ان کا فلسطینی مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس گھر کی ایک منزل کو تباہ کرنا چاہتی ہے جہاں حملہ آور رہتا تھا۔
اسرائیلی فوج نے فائرنگ سے فلسطینی کی ہلاکت کی تصدیق کیے بغیرکہا ہے کہ سیکڑوں فلسطینیوں نے فوجیوں پرپتھراؤ کیا اور پٹرول بم پھینکے ہیں۔اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کو منتشرکرنے کے لیےفائرنگ کی ہے جس سے ایک فلسطینی شہید اور 10 زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے گھروں کی مسماری مستقبل میں حملوں کی روک تھام میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے جبکہ انسانی حقوق کے گروپ اسرائیلی فوج کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ قابض فوج کی مکانوں کی مسماری کی کارروائیوں سے پورا خاندان بے گھرہوجاتا ہے اور ایک فرد کے بجائے پورے خاندان کو سزا دی جاتی ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید