انتہاپسند یہودیوں کے مسلمانوں جیسا حلیہ بنا کرمسلمانوں کے مقدس مقام مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق انتہاپسند یہودی مسلمانوں جیسا حلیہ بنا کرمسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے ہیں اوراپنی عبادت کرتے ہیں۔
انتہاپسند یہودی تنظیم کے ایک کارندے کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد مقبوضہ بیت المقدس کوفتح کرنا ہے جس پرہمارا حق ہے۔مسجد اقصیٰ جانے کے لئے ہم اپنے کپڑے، ٹوپی اورتمام دیگرشناختی علامات مسلمانوں جیسی کرتے ہیں۔
فلسطینیوں نے یہودیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے پرشدید غصے کا اظہارکیا ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ مسلمانوں کے مقدس مقام پرعبادت کے حق کوخطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
غیرمسلم مسجد اقصیٰ کمپلیکس کا دورہ کرسکتے ہیں لیکن وہاں عبادت نہیں کرسکتے۔
اسرائیل نے 1967 سے مشرقی بیت المقدس پرقبضہ کررکھا ہے۔اسرائیلی فوجی اکثرغنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں گھس کرنمازیوں کوتشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
اسرائیلی حکومت مسجد اقصیٰ میں نمازپرپابندی بھی عائد کرتی رہتی ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…