عالم اسلام

کھجور کی شاخوں سے بجلی کے جدید نظام تک مسجد نبویﷺ میں روشنی کا سفر

مسجد نبویﷺ کی تاریخ کی طرح اس میں روشنی سے متعلق انتظامات کی بھی طویل تاریخ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے دورِ پُرانوار سے آج تک مسجد نبوی میں روشنی کا عمل کئی مراحل سے گذرا ہے۔
ایک وقت تھا کہ مسجد نبویﷺ اور اس کےاطراف کو کھجور کی ٹہنیوں کو جلا کرروشنی کا انتظام کیا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسجد نبویﷺ میں روشنی کے حوالے سے جدت اور تبدیلی آتی رہی۔ آج مسجد نبویﷺ جدید برقی فانوسوں اور برقی قمقموں سے جگمگا رہی ہے۔ اس وقت مسجد نبویﷺ میں نمازیوں کی راحت و سکون کے لیے 20,450 لائٹنگ یونٹس نصب ہیں جو رات کیا دن کو بھی مسجد نبویﷺ کو بعقہ نور بنائے رکھتے ہیں۔
مدینہ منورہ کی تاریخ کے ماہر انجینیر حسان طاہر نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو دیے ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ مسجد نبویﷺ کو روشن کرنے کا آغاز اس وقت ہوا جب اسے تعمیر کیا گیا تھا۔

بتدریج ارتقاء
حسان طاھر نے مزید کہا کہ مسجد نبویﷺ اور اس کے گردونواح کو کھجور کے درختوں کی خشک شاخوں اور اس کے پتوں کو جلا کر روشنی کا انتظام کیا جاتا تھا۔ مسجد نبویﷺ میں روشنی کے عمل میں پہلی جدت اس وقت آئی جب لکڑی جلانے کے بجائے مسجد نبوی میں چراغ لگائے گئے۔ چراغوں کا اہتمام صحابی حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ نے کیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت تمیم الداری سے فرمایا کہ ’آپ نے ہماری مسجد کو روشن کیا، اللہ تمہیں روشن رکھے‘۔
حسان طاھر نے کہا کہ موم بتیوں، لالٹینوں اور ضروری تیلوں اور شمع دانوں کے ذریعے تاریخی طور پر مسجد میں روشنی کی ترقی کا عمل بتدریج جاری رہا۔
انہوں نے بتایا کہ دوسری تاریخی پیشرفت سنہ 1326 ہجری میں ہوئی جب پہلی بار مسجد نبویﷺ کو بجلی سے روشن کیا گیا۔

پہلی بار بجلی کی روشنی
حسان طاہر نے بتایا کہ مسجد نبویﷺ کو بجلی سے روشن کرنے کے لیے ایک خصوصی سٹیشن بنایا گیا تھا جس میں دو الیکٹرک جنریٹر تھے جن میں سے ہر ایک کی صلاحیت دس کلوواٹ تھی۔ ایک کوئلے پر اور دوسرا مٹی کے تیل پر چلتا۔ ان جنریٹروں کو پہلے باب المجیدی کے پاس نصب کیا گیا تھا۔ وہاں سے روشنی تاروں کے ذریعےلیمپوں تک پہنچائی گئی تھی۔ پہلی بار مسجد نبویﷺ میں پچیس شعبان 1326 ھ کو بجلی کا بلب روشن ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم آج مسجد نبویﷺ کو دیکھتے ہیں اور خوشحال سعودی دور میں اس کے تمام تعمیراتی پہلوؤں میں اس کی حیرت انگیز ترقی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسجد نبویﷺ کی لائٹننگ بہترین عالمی معیار کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں مسجد نبویﷺ اور اس کے صحنوں اور سہولیات میں مختلف اشکال، سائز اور برقی طاقت کے لائٹنگ یونٹس کی ایک خوبصورت اور ہم آہنگ تقسیم نظر آتی ہے۔
مسجد نبویﷺ کے امور کے لیے جنرل پریزیڈنسی ایجنسی نے بتایا کہ مسجد نبویﷺ میں تقریباً 20,450 لائٹنگ یونٹس ہیں جو مسجد کے تمام حصوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔

baloch

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago