- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

خدا اور قوم کو ساتھ رکھنے سے حکومتیں پائیدار بن جاتی ہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے تازہ ترین بیان میں ایران کے بعض ترقی یافتہ اور بڑے ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کو ہر کام میں خدا اور قوم کو ساتھ رکھنے پر تاکید کی۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے اکیس جنوری دوہزار بائیس کو ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہمارے حکام ہمارے ملک و ملت کے تعلقات ہمسایہ اور غیرہمسایہ ممالک سے بڑھانا چاہتے ہیں جن میں ترقی یافتہ بڑے ممالک بھی شامل ہیں۔ اسلام نے ہمیں یہ سبق سکھایاہے کہ رواداری اور دوسروں کے ساتھ پرامن زندگی گزارنے کے اصول پر گامزن ہوجائیں۔

انہوں نے مزید کہا: ایک شہری کی حیثیت سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتاہوں جو میرے خیال میں سب سے اہم اور بڑے راستے ہیں کامیابی کے حصول کے لیے۔ ہر حال میں ’اللہ‘ اور ’قوم‘ کو ساتھ رکھیں۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کو ارشادِ الہی ہے: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ؛ (اے نبئ (معّظم!) آپ کے لئے اللہ کافی ہے اور وہ مسلمان جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کرلی)

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے زور دیتے ہوئے کہا: سب سے بڑی ذہانت اور چالاکی یہی ہے کہ ہم خدا کو ناراض نہ کریں اور اسی کی رضامندی کو مدنظر رکھیں۔ اس ذات ِ پاک کو ساتھ رکھیں تاکہ ہمارا حامی ہو۔ اللہ تعالیٰ کو ساتھ رکھنا ہر قوم، ملک اور سیاستدان اور قائد کے لیے بہت ہی اہم اور ضروری ہے۔

انہوں نے قوموں کی نگہداری پر بھی تاکید کرتے ہوئے کہا: قوم کی رضامندی، ان کی باتیں سننا اور ان کے جائز مطالبات کو ماننا بھی ایک اہم پالیسی ہے۔ جو حکومتیں خدا اور قوم کو ساتھ رکھتے ہیں اور ان کی حمایت حاصل کرتے ہیں، وہی پائیدار ہیں اور انہیں دوام حاصل ہوتاہے۔

نفاذِ عدل کی اہمیت واضح کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: سب حکام، حکومتیں، مسلم اور غیرمسلم ریاستیں نفاذِ عدل کے بغیر اللہ اور قوم کو ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ انصاف کی فراہمی بہت اہم اور اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کو پسند فرماتاہے۔

انہوں نے مزید کہا: انقلاب کے ابتدائی ایام میں ایک اچھا نعرہ لگایا جاتا تھا کہ ملک کفر کے ساتھ باقی رہ سکتاہے، لیکن ظلم کے ساتھ نہیں! یہ ایک حقیقت ہے۔ جب کسی ملک میں عدل نبویﷺ اور فاروقی و علوی عدل نافذ ہو، تب وہاں ’اللہ‘ اور ’قوم‘ کو ایک ساتھ رکھنے کی امید ہے۔

تناؤ کم کرنا بہترین پالیسی ہے/ حکام غربت کی بیخ کنی کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں
خطیب اہل سنت زاہدان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: مختلف ملکوں کے ساتھ تناؤ ختم کرنا اور اچھے تعلقات قائم کرنا بہترین پالیسی ہے۔ ایرانی عوام جن کے مسائل بہت زیادہ ہیں یہی چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوجائیں، ملک آباد و خوشحال ہو اور روزگار کی فراہمی اور غربت کی بیخ کنی کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: روزگار کی فراہمی اور غربت کا خاتمہ صدر رئیسی کے انتخابی وعدے تھے اور ہمیں امید ہے وہ اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں گے۔ معاشی پابندیوں کے خاتمے کے لیے کوشش کرنا بہت ضروری ہے تاکہ قوم کے مسائل حل ہوجائیں۔

صدر دارالعلوم زاہدان نے موجودہ حکومت کے ذمہ داران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مسٹر رئیسی کی حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ مختلف لسانی و مسلکی برادریوں میں کوئی تمیز اور فرق نہ ڈالیں۔ سب کو ایک ہی نظر سے دیکھیں۔ خود کو اصول پسند کہنے والے سیاستدانوں کو چاہیے اصول کی پابندی کریں اور مختلف لسانی، مذہبی اور مسلکی برادریوں کو ایک ہی نظر سے دیکھیں۔

انہوں نے کہا: امید ہے قومیتوں اور مسالک کے قابل افراد سے مختلف ضلعی، صوبائی اور قومی عہدوں میں کام لیا جائے اور حکام دوراندیشی سے کام لیں۔

اللہ تعالیٰ کی محبت انسان کے لیے ترک معاصی اور شریعت پر عمل کو آسان کردیتی ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے پہلے حصے میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: اللہ جل جلالہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت کی بدولت انسان کو حیات اور ایمان نصیب ہوجاتی ہے۔ قرآن کریم، نبی کریم ﷺ کی سنت اور عقل کا بھی تقاضا ہے کہ اپنے خالق اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنی چاہیے۔

انہوں نے ایک حدیث شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم مومن نہیں بن سکتے ہو جب تک اللہ اور اس کے رسول کی محبت تمہارے دلوں میں دوسروں کی محبت پر غالب نہ ہو۔

خطیب اہل سنت نے کہا: جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اور عشق دل میں بیٹھ جائے، گناہوں کو چھوڑنا، زکات دینا، نماز فجر کے لیے اٹھنا، وضو بناکر سردی میں مسجد جانا اور اللہ کی خاطر ہر قسم کی سختی کو برداشت کرنا آسان ہوجاتاہے۔ اسی عشق نے صحابہ ؓ اور اسلاف کے لیے اللہ کی راہ میں ہجرت، موت اور جہاد کو آسان بنادیا تھا۔ ان کا واحد مقصد اللہ کی رضامندی کا حصول تھا۔

انہوں نے مزید کہا: خدا اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کا دعویٰ کافی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اس محبت کو قبول فرماتاہے جو دل کی گہرائیوں سے ہو اور ہمارا عمل بھی اس کی تصدیق کرے۔ اللہ نے ہمیں ایک قطرہ پانی سے خلق فرمایا اور بہت ساری نعمتوں سے نوازا۔ نبی کریم ﷺ بھی ہمارے محسن ہیں اور ہم ان سب سے محبت کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ و اہل بیت ؓ کی خدمات اور احسانات کے بارے میں سوچیں تاکہ ان کی محبت ہمارے دلوں میں بس جائے۔ کثرت سے ذکر کریں اور درود بھیجیں۔ یہی محبت ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہوگا۔