آب زمزم مسلمانوں کے نزدیک سب سے زیادہ با برکت پانی شمار ہوتا ہے۔ مسجد نبوی میں یہ پانی سینی ٹائزڈ کُولروں میں پیش کیا جاتا ہے۔
عربوں نے قدیم زمانے سے ہی زمزم کو خصوصی توجہ دی۔ یہ پانی نسل در نسل معتمرین اور بیت اللہ کے زائرین کو پیش کیا جاتا رہا۔ سعودی عرب کے قیام کے بعد اس کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کے دور سے لے کر موجودہ خادم حرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور تک مملکت حجاج ، معتمرین اور مسجد نبوی کے زائرین کی خدمت کے سلسلے میں کوشاں رہتی ہے اور ان کے لیے آب زمزم بھی پیش کرتی ہے۔
آب زمزم پیش کرنے والے ادارے کو “سقیا زمزم” کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی انتظامیہ مسجد نبوی میں نمازیوں اور زائرین کو 24 گھنٹے آب زمزم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مصروف عمل رہتی ہے۔
سقیا کی انتظامیہ مضبوط کولروں اور ایک بار استعمال میں آنے والے پیکٹوں کے ذریعے آب زمزم پیش کرتی ہے۔ اسی طرح کمر پر معلق کیے جانے والے کُولروں اور ٹھنڈے پانی کے لیے فواروں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل کی نگرانی خصوصی تربیت کے حامل افراد کرتے ہیں۔
سقیا کی انتظامیہ روزانہ آب زمزم کے 30 ہزار سے زیادہ پَیک تقیسم کرتی ہے۔ زمین پر نصب کولروں کی تعداد 8 ہزار ہے۔ مسجد نبوی کے صحنوں میں پانی کے 1200 فوارے دستیاب ہیں جہاں چوبیس گھنٹے آب زمزم کی فراہمی جاری رہتی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…