افغانستان میں طالبان تحریک نے مشرقی صوبے ننگرہار میں داعش تنظیم کے “والی” (ذمے دار) کو گرفتار کر لیا۔ ننگرہار کو داعش تنظیم کا گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔
داعش تنظیم کے سیکڑوں ارکان نے ننگرہار صوبے میں پناہ لے رکھی ہے۔ بالخصوص اگست کے وسط میں افغان دارالحکومت کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان کی جانب سے جیلوں کو خالی کرنے کے بعد مذکورہ صوبہ داعش کا گڑھ بن گیا۔
ماضی میں ننگرہار صوبہ بالخصوص تورا بورا کے پہاڑ القاعدہ تنظیم کی آماج گاہ تھے۔
رواں ماہ 4 اکتوبر کو طالبان حکومت نے کابل میں ایک سیکورٹی کارروائی کے دوران میں “داعش خراسان” تنظیم کے ایک گروپ کو نشانہ بنائے جانے کا اعلان کیا تھا۔
ٹویٹر پر طالبان حکومت کے سرکاری اکاؤنٹ پر بتایا گیا کہ “یہ چھاپہ مار کارروائی نہایت کامیاب رہی اور گروپ کے تمام ارکان کو ہلاک کر دیا گیا”۔
یہ کارروائی افغانستان میں داعش تنظیم کی جانب سے کابل ہوائی اڈے کے باہر دو خونی دھماکوں کی ذمے داری قبول کرنے کے بعد عمل میں آئی۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں 72 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مارے جانے والوں میں 13 امریکی فوجی بھی تھے۔
ماضی میں داعش تنظیم (ولایتِ خراسان) اور طالبان تحریک کے بیچ شدید معرکے ہو چکے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ افغانستان میں یہ تنظیم 2015ء میں تشکیل دی گئی۔
رواں ماہ 8 اکتوبر کو طالبان تحریک نے جنوبی صوبے نمروز کے گاؤں “مولی علی” میں 8 افراد پر مشتمل داعش تنظیم کے ایک گروپ کو گرفتار کر لیا تھا۔ گروپ کے قبضے سے ہتھیار اور بم بھی برآمد کیے گئے تھے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان