آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مسلمان خاتون کو ایک خاتون نے حجاب کی وجہ سے نہ صرف دہشت گرد کہہ کر پکارا بلکہ انھیں زدوکوب بھی کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بارا بولاط نامی خاتون کو بس اسٹینڈ پر مقامی خاتون نے ہراساں کیا۔ حجاب پہننے پر بارا بولاط کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنایا گیا اور غلیظ زبان استعمال کی گئی۔
مسلم خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ وہ خاتون مسلسل یہی کہے جارہی تھیں میں اپنے وطن ترکی واپس چلا جاؤں کیوں کہ مجھ جیسی خاتون کا ویانا میں ہونا اچھا نہیں ہے۔ وہ مجھے دہشت گرد بھی کہتی رہیں۔
بارا بولاط نے مزید کہا کہ میں حیران ہوں تعصب میں کوئی اتنا اندھا کیسے ہوسکتا ہے۔ میں ترکی سے نہیں ہوں بلکہ میری پیدائش یہی کی ہے اور میں پلی بڑھی بھی اسی ملک میں ہوں، یہ میری سر زمین ہے۔
مسلم خاتون نے ہراساں کرنے والی خاتون کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…