فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ‘اونروا’ (یو این آر ڈبلیو اے) کے کمشنر جنرل فلپ لزارینی نےجنگ زدہ فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے بعد انہوںنے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے دورے کے دوران تباہی دیکھ کر انہیں شدید صدمہ پہنچا۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کی صورت حال دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ غزہ کے عوام بدترین انسانی المیے کاشکار ہیں اور غزہ کا علاقہ زمین پر جھنم بن چکا ہے۔
انہوں نے جمعہ کو “العربیہ” اسکرین کے پروگرام “ڈپلومیٹک اسٹریٹ” میں انٹرویو کے دوران مزید کہا تھا کہ مسلسل 11 دن تک بمباری کا نشانہ بننے والےعلاقے غزہ کی پٹی میں چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
لزارینی نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے 70 فی صد رہائشی مہاجرین ہیں۔ تازہ بمباری میں متاثر ہونے والے 70 ہزار افراد ایجنسی کی پناہ گاہوں میں ہیں۔
‘اونروا’ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ‘یو این آر ڈبلیو اے’ غزہ میں لوگوں کے نقصان میں ان کی مدد کا جائزہ لے رہا ہے۔
لزاریانی نے جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ گذشتہ ہفتوں میں اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کے حل کے لیے حقیقی اور جامع کوششوں کی عدم موجودگی جنگ اور تشدد کا باعث بنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی بات چیت اور امن عمل جاری رہنا چاہیے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید