افغانستان کے صدر اشرف غنی نے امریکا کی جانب سے عبوری حکومت کے قیام کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ملک میں نئے صدارتی الیکشن کی پیشکش کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے افغانستان کے دو سینئر سرکاری عہدیداروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی ممکنہ طور پر اگلے ماہ ترکی میں ہونے والے عالمی اجتماع میں افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے نئے صدارتی الیکشن کی پیشکش کریں گے۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی یہ پیشکش امریکا کی جانب سے تمام فریقین پر مشتمل عبوری حکومت کے قیام کی تجویز کے جواب میں دیں گے۔ اگر طالبان سیز فائر پر راضی ہوجاتے ہیں تو جلد از جلد صدارتی الیکشن کرا دیئے جائیں گے۔
امریکا اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس طے پانے والے معاہدے میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا مئی 2021 تک مکمل کرنے پر اتفاق ہوا تھا تاہم نئی امریکی حکومت نے معاہدے پر نظر ثانی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج کے انخلا میں توسیع ہوسکتی ہے۔
جس پر طالبان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکا معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ہم بھی معاہدے کی پاسداری نہیں کریں گے اور امریکا کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
قبل ازیں صدر اشرف غنی بھی افغانستان میں تمام فریقین پر مشتمل عبوری حکومت کے قیام کی امریکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح انداز میں کہہ چکے ہیں کہ میرے جیتے جی عبوری حکومت کا قیام ممکن نہیں۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید