قطر کے دارالحکومت میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بین الافغان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ برس ستمبر سے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان شروع ہونے والے بین الافغان مذاکرات کئی ہفتوں جاری رہنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے بغیر تعطل کا شکار ہوگئے تھے تاہم آج سے مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔
امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان زلمے خلیل زاد نے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں کسی ٹھوس پیش رفت کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین افغان عوام کے مفاد میں لچک کا مظاہرہ کریں اور افغانستان کے سیاسی مستقبل سے متعلق معاہدے، پُر تشدد کارروائیوں میں فوری کمی اور جنگ بندی پر جلد از جلد اتفاق کرلیں۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے حکومتی مذکراتی ٹیم کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے ہدایت کی کہ آئین اور عوام کی خواہشات پر قائم رہتے ہوئے بین الافغان مذاکرات کو جاری رکھا جائے۔
افغانستان کی اعلیٰ کونسل برائے مفاہمت کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کا بھی کہنا تھا کہ مذاکرتی ٹیم کو افغان حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے اور امن معاہدے کے مندرجات طے کرنے کا پورا اختیار بھی حاصل ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…