بیت اللہ کا دروازہ ڈیزائن کرنے والے انجیئیئر منیرالجندی انتقال کرگئے۔
العربیہ نیوز کے مطابق سعودی عرب کے چوتھے فرماں روا شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دور میں بیت اللہ شریف کا دروازہ ڈیزائن کرنے والے انجینئر منیر الجندی ہفتے کے روز جرمنی میں انتقال کر گئے۔
تفصیلات مطابق سعودی فرماں روا شاہ خالد نے 1397 ہجری(بمطابق 1976 عیسوی) میں بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی جس کے بعد انہوں نے کعبہ کا دروازہ خالص سونے سے تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ یہ دروازہ ڈیزائن کرنے کے لیے شام سے تعلق رکھنے والے انجینئر منیر الجندی کا انتخاب کیا گیا۔ الجندی شام کے شہر حمص میں پیدا ہوئے تھے۔
اس دروازے کو مکہ مکرمہ میں ایک بہت بڑے سُنار شیخ محمود بن بدر کے کارخانے میں ڈیزائن کیا گیا۔ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے آل بدر خاندان کو بیت اللہ کا دروازہ تیار کرنے کی ذمے داری بھی سونپی تھی۔ بیت اللہ کے دروازے کی تیاری 1398 ہجری(1977) میں ہوئی اور اس میں 280 کلو گرام خالص سونا استعمال کیا گیا۔
سعودی حکومت خواہش تھی کہ بیت اللہ کے دروازے کو کوئی مسلمان شخصیت ڈیزائن کرے کیوں کہ اس کا نام دروازے پر لکھا جانا تھا۔ انجینئر منیر الجندی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ڈیزائنر کے طور پر ان کا نام بیت اللہ کے دروازے پر لکھا گیا ۔
تاریخ کے محقق منصور العساف نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ “دروازے کو انجینئر منیر الجندی نے ڈیزائن کیا۔ دروازے پر نقش و نگار شیخ عبدالرحیم البخاری نے بنائے۔ دروازے کی بلندی 3 میٹر اور چوڑائی 2 میٹر ہے۔ یہ نصف میٹر کے قریب گہرا ہے۔ دروازہ دو کِواڑو پر مشتمل ہے۔ دروازے کا فریم “میکا مونگ” لکڑی سے بنا ہوا ہے جو تھائی لینڈ میں تیار ہوتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں مہنگی ترین لکڑی ہے”۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید