شام میں ترکی کے زیر انتظام علاقے الباب کے بس اڈے میں بارود سے بھرا ٹرک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک اور 75 افراد زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق الباب کے علاقے میں بس اڈے پر کھڑے ٹرک میں دھماکا ہوگیا جس کے نتیجے میں 100 کے قریب افراد زخمی ہوگئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 13 افراد کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
تاحال کسی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس علاقے میں ترک مخالف شدت پسند گروپ متحرک ہیں جو اس سے قبل بھی ایسے حملے کرچکے ہیں۔ ترک انتظامیہ نے دھماکے کی ذمہ داری وائے پی جی پر عائد کی ہے۔
واضح رہے کہ الباب کو ترک فوجیوں نے داعش کے قبضے سے 2017 میں واگزار کرایا تھا اور تب سے یہ علاقہ ترک حکومت کے ہی زیر انتظام ہے جہاں ترک حمایت یافتہ مقامی جماعت کی عملداری ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار