نیوزی لینڈ میں دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کرکے 50 نمازیوں کو شہید کرنے والے آسٹریلوی حملہ آور کو 24 اگست کو سزائے موت دی جائے گی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ کی عدالت عالیہ کے جج جسٹس کیمرون مینڈر نے مساجد پر حملے میں ملوث آسٹریلوی شہری برینٹن ٹارنٹ کو سزائے موت سناتے ہوئے پھانسی کی سزا کے لیے 24 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔
پھانسی کی سزا کی تاریخ میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مساجد میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ اس وقت نیوزی لینڈ میں موجود نہیں ہیں اور کورونا وبا کے باعث فوری طور پر واپس نہیں آ پا رہے ہیں۔
پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ اگر لواحقین کورونا وبا کی وجہ سے 24 اگست تک نیوزی لینڈ نہ پہنچ سکے تو مجرم کی پھانسی کے وقت ویڈیو کانفرنس کے ذریعے لواحقین کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ مجرم برینٹن پر رواں برس کے اوائل میں 51 افراد کو قتل اور 40 پر اقدام قتل کی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد ’’ مسجد النور‘‘ اور ’’لِن ووڈ مسجد‘‘ میں آسٹریلوی سفید فام انتہا پسند مسیحی نے اندھا دھند فائرنگ کرکے 51 نمازیوں کو شہید اور 40 کو زخمی کردیا تھا۔ مجرم نے سفاکانہ حملے کی ویڈیو فیس بک پر لائیو نشر کی تھی۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…