فلسطین میں انسانی حقوق کے مندوبین نے صہیونی ریاست کی جانب سے قیدیوں کے علاج کے لیے مختص الرملہ جیل اسپتال میں داخل فلسطینی قیدی مریضوں کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسیر مریضوں کو کسی قسم کی طبی سہولت میسر نہیں۔ انہیں نام نہاد اسپتال منتقل کرکے ان کی مشکلات میں اور بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کے مندوب فواز شلودی نے بتایا کہ انہوں نے منگل کو الرملہ جیل اسپتال میں داخل متعدد فلسطینی مریض قیدیوں سے ملاقات کی۔ ان کی طبی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے اورانہیں انتہائی سنگین اور مشکل حالات میں رکھا گیا ہے۔
شلودی نے بتایا کہ رملہ جیل اسپتال میں اس وقت 14 فلسطینی مریض قیدی داخل ہیں۔ انہیں بنیادی طبی نگہداشت کی خاطر خواہ سہولت میسر نہیں بلکہ اسپتال میں لائے جانے کے باوجود ان کے ساتھ انتقامی کارروائیاں جاری ہیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…