مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے حرم مکی میں نمازیوں کے درمیان سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ یہ تدابیر پریذیڈنسی کی جانب سے متعارف کرائے گئے منصوبے “معاً محترزون” (احتیاط میں ہم ایک ساتھ) کے ضمن میں اختیار کی گئی ہیں۔
مذکورہ پیش رفت اُن احتیاطی اقدامات کا حصہ ہے جو حرمین کی جنرل پریذیڈنسی نے مسجد حرام کے اندر سیکورٹی اہل کاروں کے تعاون سے انجام دیے ہیں۔ ان کا مقصد حرم مکی میں کام کرنے والوں کے درمیان کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
یاد رہے کہ جنرل پریذیڈنسی نے کچھ عرصہ قبل وزارت صحت کے تعاون سے متعدد احتیاطی اقدامات اختیار کیے ہیں۔ ان میں مسجد حرام میں داخل ہوتے وقت آئمہ کرام، مؤذنین، سیکورٹی اہل کاروں اور جنرل پریذیڈنسی کے ملازمین کے جسمانی درجہ حرارت کی پیمائش شامل ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…