مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے حرم مکی میں نمازیوں کے درمیان سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ یہ تدابیر پریذیڈنسی کی جانب سے متعارف کرائے گئے منصوبے “معاً محترزون” (احتیاط میں ہم ایک ساتھ) کے ضمن میں اختیار کی گئی ہیں۔
مذکورہ پیش رفت اُن احتیاطی اقدامات کا حصہ ہے جو حرمین کی جنرل پریذیڈنسی نے مسجد حرام کے اندر سیکورٹی اہل کاروں کے تعاون سے انجام دیے ہیں۔ ان کا مقصد حرم مکی میں کام کرنے والوں کے درمیان کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
یاد رہے کہ جنرل پریذیڈنسی نے کچھ عرصہ قبل وزارت صحت کے تعاون سے متعدد احتیاطی اقدامات اختیار کیے ہیں۔ ان میں مسجد حرام میں داخل ہوتے وقت آئمہ کرام، مؤذنین، سیکورٹی اہل کاروں اور جنرل پریذیڈنسی کے ملازمین کے جسمانی درجہ حرارت کی پیمائش شامل ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…