افغان حکومت کی جانب سے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پر طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر افغان حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو قیدیوں کی رہائی کے عمل کی تصدیق کے لیے کابل بھیجا گیا تھا تاکہ تصدیق کی جاسکے کہ معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہوا ہے کہ نہیں۔
سیاسی دفتر کے ترجمان نے کہا کہ بدقسمتی سے قیدیوں کی رہائی کا عمل ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوگیا ہے اور صرف بہانے بنائے جارہے ہیں تاہم اب قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر ہماری ٹیم کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔
واضح رہے کہ رواں سال فروری میں امریکا اور طالبان نے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے، معاہدے کے مطابق افغانستان میں القاعدہ اور داعش سمیت دیگر تنظیموں کے نیٹ ورک پر پابندی ہوگی، دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھرتیاں کرنے اور فنڈز اکٹھا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی جب کہ معاہدے کے تحت افغان حکومت نے 5 ہزار گرفتار طالبان کو رہا بھی کرنا تھا۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…