اسرائیلی فوج کی طرف سے حراست میں لی گئی سینیر فلسطینی طالبہ بشری جمال الطویل کواسرائیلی فوجی عدالت’عوفر’ کی طرف سےچار ماہ انتظامی قید کی سزا سنائی ہے۔
بشریٰ الطویل کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بشریٰ کو اسرائیل کی فوجی عدالت نے چارماہ کی قابل توسیع قید کی سزا سنائی ہے۔
خیال رہے کہ بشریٰ الطویل کو اسرائیلی فوج نے وسطی غرب اردن کے علاقے البیرہ کی ام الشرایط کالونی سے حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لیے جانے کے بعد دوران حراست اسے بری طرح زدو کوب کیا گیا ہے۔
بشریٰ الطویل 4 سال تک مختلف اوقات میں اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل رکھا گیا۔ خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں 40 فلسطینی خواتین پابند سلاسل ہیں۔ ان میں سے بعض انتظامی قید کی ظالمانہ پالیسی کے تحت قید ہیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…