افغان طالبان اور امریکا کے درمیان جس معاہدے کا انتظار کیا جارہا تھا وہ 29 فروری 2020 کو عالمی مبصروں کی موجودگی میں ہوگا۔
طالبان ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے ایکسپریس ٹریبیون کو بھیجی گئی ای میل میں کہا کہ افغانستان اور امریکا دونوں فریقین نے باہمی طور پر طے کیا ہے کہ حتمی طور پر منظور شدہ امن معاہدے پر بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی میں دستخط کئے جائیں گے اور یہ تقریب 29 فروری 2020 کو منعقد ہوگی۔
اس سے ایک دن قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی اعلان کیا تھا کہ 29 فروری کو طالبان سے ایک معاہدے پر دستخط کئے جائیں گے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ تشدد میں کمی کے معاہدے پر دستخط کے بعد ہم طالبان سے مزید معاہدوں کی جانب آگے بڑھے ہیں۔
طالبان کے وفد میں ملاعبدالغنی برادر اور شیر محمد عباس ستینکزئی اور امریکی وفد کی سربراہی زلمے خیل زاد کے ذمے تھی۔ مذاکرات قطر کے شہر دوحہ میں ہوئے۔
طالبان کے ترجمان نے کہا کہ دونوں فریقین معاہدے سے قبل ایک مناسب اور محفوظ ماحول وضع کریں گے، اس موقع پر کئی ممالک اور تنظیموں سے وابستہ افراد بھی شرکت کریں گے تاہم ذبیح اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تقریب کہاں منعقد ہوگی۔
طالبان ترجمان نے کہا کہ معاہدے کے بعد قیدیوں کا تبادلہ ہوگا ، پورے افغانستان کی سیاسی اکائیوں سے گفتگو شروع ہوگی اور ملک گیر امن منصوبے کا روڈ میپ بھی وضع کیا جائے گا۔
دوسری جانب افغان حکومت کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس میں تینوں فریق شامل ہوں گے جن میں طالبان، امریکا اور افغان افواج شامل ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…