فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی زندانوں میں قید سات ہزار کے قریب فلسطینیوں میں سے 540 کم سے کم ایک یا زیادہ بار عمر قید کی سزا کے تحت پابند سلاسل ہیں۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کے مندوب عبدالناصر فروانہ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ 31 دسمبر 2019ء کو اسرائیلی جیلوں میں قید باقاعدہ سزا یافتہ فلسطینیوں کی تعداد 2922 ہے۔ اب میں 61 بچے ہیں جن کی عمریں 14 سے 18 سال ہیں۔
عبدالناصر فروانہ کے مطابق 540 فلسطینیوں کو عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔ 497 فلسطینیوں کو 20 یا زیادہ عرصے کے تحت قید کیا گیا ہے جب کہ 338 فلسطینیوں کو 15 سے 20 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 201 فلسطینیوں 10 سے پندرہ اور 362 کو پانچ سے 10 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ 984 فلسطینیوں کو پانچ سال سے عرصے کی قید کی سزا سنائی گئی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان