حسب سابق بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا۔ گذشتہ برس بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں 7 فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ سیکڑوں کو گرفتار کیا گیا اور 355 فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائی سے محروم کیا گیا۔
حلوہ انفارمیشن سینٹر کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس بیت المقدس میں اسرائیل کےریاستی جرائم، فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری، مقدس مقامات کی بے حرمتی، قتل عمد اور دیگر جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے گذشتہ برس القدس میں 7 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔ ان میں 16 سالہ ریاض محمد شماسنہ اور سماح زھیر مبارک، 18 سالہ یوسف وجیہ، 20 سالہ موسیٰ ابو میالہ، محمد سمیر عبید،14 سالہ نسیم مکافح رومی اور فارس ابو ناب شامل ہیں۔
بیت المقدس کے تین فلسطینی شہداء کے جسد خاکی بھی اسرائیلی فوج کی تحویل میں ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2019ء کے دوران 34 ہزار یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی۔
نئے سال کے موقع پر 6 ہزار 338 یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پردھاوا بولا، ایسٹر کے موقع پر 3658 اور اگست میں 3576 یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پراجتماعی دھاوے بولے۔
جون 2019ء میں 3318 یہودی آباد کاروں نے مسجد ابراہیمی پر دھاوے بولے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…