ترکی کے وزیراعظم طیب اردوان نے واضح کیا ہے کہ شام پر کیے گئے حملے کا مقصد زمین کے ٹکڑے پر قبضہ کرنا نہیں ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوان نے انقراہ میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی حمایت نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ترکی کسی دوسرے ملک کی سر زمین پر نظریں نہیں رکھتا۔
اردوان نے کہا کہ ان پر الزامات عائد کیے جارہے ہیں کہ یہ آپریشن شام کی سر زمین کے کچھ حصوں پر قبضے کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں، لیکن یہ الزامات عائد کرنے والے ہماری توہین کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ انقراہ کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائے پی جی) کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے جو کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) کی ذیلی جماعت ہے جسے امریکا اور یورپی یونین نے بھی بلیک لسٹ قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ 05 اکتوبر کو شام کے صدر طیب اردوان نے شام میں فوجی آپریشن کا عندیہ دیا تھا جس کا مقصد شام میں ترکی کی سرحد سے متصل سرحد پر ایک ’’سیف زون‘‘ بنانا تھا۔
طیب اردوان نے کہا تھا کہ ترکی شام میں دریائے فرات کے مشرق میں فضائی اور زمینی فوجی آپریشن کرے گا اور یہ آپریشن جلد شروع ہوسکتا ہے۔
اپنے اس اعلان کے بعد 09 اکتوبر کو ترک فوج شام میں آپریشن شروع کردیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اب تک 5 ہزار سے زائد ترک فوجی اس آپریشن میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
ترکی کے اس اقدام کو عرب ممالک، امریکا اور یورپی یونین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اپنے اوپر ہونے والی تنقید پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے یورپی ممالک کو دھمکی دی تھی کہ اگر شام میں ہونے والے فوجی آپریشن کے ان کے اس اقدام کو حملہ کہا گیا تو یورپ میں انسانوں کا سیلاب آجائے گا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…