اسرائیلی پولیس کے حفاظتی حصار کے ساتھ سیکڑوں یہودی زبردستی مسجد اقصیٰ میں داخل ہوگئے اور مسلمانوں کو عبادت کی ادائیگی سے روک کر اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق قابض اسرائیلی پولیس نے 200 سے زائد یہودیوں کو زبردستی بابِ رحمت سے مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل کیا، جہاں یہودیوں نے عبرانی کیلنڈر کے سال کے آغاز کے اعتبار سے مذہبی تہوار روش ہاشنہ منایا اور مذہبی رسومات ادا کیں۔
اس موقع پر قابض اسرائیلی فوج نے مسجد کے صحن میں نماز کی ادائیگی کے لیے موجود مسلمانوں پر تشدد کیا اور جبری طور پر بے دخل کردیا۔ اس موقع پر انتہا پسند یہودی گروپ گلک کے ارکان بھی موجود تھے۔ فلسطینیوں نے اسرائیلی پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور سخت احتجاج کیا۔
قابض اسرائیلی پولیس کے متعصبانہ عمل اور یہودیوں کی دیدہ دلیری کو مدنظر رکھتے ہوئے بیت المقدس کی سپریم اسلامی اتھارٹی کے سربراہ شیخ عکرمہ صابری کی اپیل پر مسلمانوں کی بڑی تعداد ہمہ وقت مسجد اقصیٰ کے صحن میں موجود ہے تاکہ اسرائیلوں کو دوبارہ داخل ہونے سے روکا جاسکے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید