اسرائیلی پولیس کے حفاظتی حصار کے ساتھ سیکڑوں یہودی زبردستی مسجد اقصیٰ میں داخل ہوگئے اور مسلمانوں کو عبادت کی ادائیگی سے روک کر اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق قابض اسرائیلی پولیس نے 200 سے زائد یہودیوں کو زبردستی بابِ رحمت سے مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل کیا، جہاں یہودیوں نے عبرانی کیلنڈر کے سال کے آغاز کے اعتبار سے مذہبی تہوار روش ہاشنہ منایا اور مذہبی رسومات ادا کیں۔
اس موقع پر قابض اسرائیلی فوج نے مسجد کے صحن میں نماز کی ادائیگی کے لیے موجود مسلمانوں پر تشدد کیا اور جبری طور پر بے دخل کردیا۔ اس موقع پر انتہا پسند یہودی گروپ گلک کے ارکان بھی موجود تھے۔ فلسطینیوں نے اسرائیلی پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور سخت احتجاج کیا۔
قابض اسرائیلی پولیس کے متعصبانہ عمل اور یہودیوں کی دیدہ دلیری کو مدنظر رکھتے ہوئے بیت المقدس کی سپریم اسلامی اتھارٹی کے سربراہ شیخ عکرمہ صابری کی اپیل پر مسلمانوں کی بڑی تعداد ہمہ وقت مسجد اقصیٰ کے صحن میں موجود ہے تاکہ اسرائیلوں کو دوبارہ داخل ہونے سے روکا جاسکے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…