Afghan security members and people work at the site of a suicide attack in Zabul, Afghanistan, Thursday, Sept. 19, 2019. A powerful early morning suicide truck bomb devastated a hospital in southern Afghanistan on Thursday. (AP Photo/Ahmad Wali Sarhadi)
افغانستان کے جنوبی علاقے میں ہسپتال کے نزدیک خودکش دھماکے سے 20 افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہوگئے
طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی جس کی وجہ زابل صوبے کے دارالحکومت قلات کے ہسپتال کا کچھ حصہ تباہ ہوگیا اور ایمبولینسز کو نقصان پہنچا۔
اپنے بیمار اہلخانہ کی عیادت کے لیے آئے مقامی افراد نے شال اور کمبل کے ذریعے زخمی افراد کو ہسپتال کے اندر منتقل کیا جبکہ حکام نے شدید زخمی افراد کو قریبی کندھار کے ہسپتالوں میں منتقل کیا۔
دھماکے کے فوری بعد ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں تضاد سامنے آیا۔
صوبائی گورنر کے ترجمان گل اسلام سیال نے ہلاکتوں کی تعداد 12 بتائی تاہم بعد ازاں صوبائی کونسل کے سربراہ عطا جان حق بیان نے یہ تعداد 20 بتائی۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے مذاکرات منسوخ کیے جانے کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر حملے کرنے والے طالبان کا کہنا تھا کہ حملے کا ہدف قریبی قائم سرکاری خفیہ ادارے کی عمارت تھی۔
صوبائی کونسل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حملے میں محکمہ قومی سلامتی (این ڈی ایس) کی دیوار کو نقصان پہنچا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ حملے میں کوئی اہلکار بھی زخمیوں میں شامل ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ 18 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری تھے، رواں ماہ کے آغاز میں امریکی صدر کے اعلان کے بعد منقطع ہوگئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اچانک افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور اس کی وجہ انہوں نے افغان دارالحکومت کابل میں طالبان کے حملے میں ایک امریکی فوج کی ہلاکت کو قرار دیا تھا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں طالبان اور افغان رہنماؤں سے ہونے والی خفیہ ملاقات کو بھی معطل کردیا تھا۔
گزشتہ روز برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان کے مرکزی مذاکرات کار شیر محمد عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ ‘افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے’۔
امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘انہوں نے ہزاروں طالبان کو ہلاک کردیا لیکن اسی اثنا میں اگر ایک (امریکی) سپاہی مارا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس طرح کا ردعمل ظاہر کریں کیونکہ دونوں جانب سے کوئی جنگ بندی نہیں ہوئی’۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…