امریکا کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی اور طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر غور کیا گیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی تیاری کا اشارہ دے دیا ہے۔
امریکی نائب صدر مائیک پینس، وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو، وزیرِ دفاع مارک ایسپر، میرین جنرل چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ، مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن اور خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سے ان کے اعلیٰ مشیروں کی بات چیت بہت اچھی رہی۔
خبر ایجنسی کے مطابق زلمے خلیل زاد طالبان سے امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے رواں ہفتے قطر جائیں گے۔
اس معاہدے سے افغان حکومت، طالبان اور دیگر فریقین کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…