امریکا کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی اور طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر غور کیا گیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی تیاری کا اشارہ دے دیا ہے۔
امریکی نائب صدر مائیک پینس، وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو، وزیرِ دفاع مارک ایسپر، میرین جنرل چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ، مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن اور خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سے ان کے اعلیٰ مشیروں کی بات چیت بہت اچھی رہی۔
خبر ایجنسی کے مطابق زلمے خلیل زاد طالبان سے امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے رواں ہفتے قطر جائیں گے۔
اس معاہدے سے افغان حکومت، طالبان اور دیگر فریقین کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان