افغانستان میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے مرکزی دروازے پر خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری کار ٹکرا دی جس کے نتیجے میں 28 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔
عالمی میڈیا کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ضلعی پولیس کے ہیڈ کوارٹر-6 پر علی الصبح دہشت گردوں نے بارودی مواد سے بھری کار ٹکرادی جس کے نتیجے میں 145 افراد زخمی ہوگئے۔ طالبان نے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ریسکیو اداروں نے امدادی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں 28 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں پولیس اہلکاروں سمیت خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خود کش کار بمبار حملے کے بعد مسلح افراد اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے، پولیس اہلکاروں اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ ایک گھنٹے تک جاری رہی بعد ازاں حملہ آور پسپا ہوگئے۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ پولیس ہیڈ کوارٹر مصروف رہائشی علاقے میں واقع ہے، دھماکا اتنا شدید تھا کہ ہیڈ کوارٹر کے ساتھ بنے درجنوں رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے جب کہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…