اسرائیلی فوج کی مدد سے سیکڑوں یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوگئے جہاں مسلمان نماز پڑھ رہے تھے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق قابض اسرائیلی فوج کے سائے میں 30 سال میں پہلی مرتبہ یہودی آبادکار مسجد اقصیٰ میں داخل ہوگئے اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی کوشش کی، جس پر وہاں موجود مسلمان نمازیوں نے احتجاج کیا تو اسرائیلی فوج نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
مسلمان نمازیوں کا کہنا تھا کہ ایک معاہدے کے تحت اس حصے میں صرف مسلمان عبادت کرسکتے ہیں اور یہودی آبادکاروں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں اور نا ہی گزشتہ 30 برسوں میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے تاہم اسرائیلی فوج نے کوئی بھی بات سننے کے بجائے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں برسائیں اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
دوسری جانب یہودی آباد کاروں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کا مقصد 1967 میں ہونے والی 6 روزہ عرب اتحاد اور اسرائیل جنگ کی یاد تازہ کرنا تھا، اس جنگ میں اسرائیل نے کامیابی حاصل کی تھی۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…