افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مذہبی تقریب کے دوران دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد جاں بحق اور 80 سے زائد زخمی ہوگئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا نماز مغرب کے بعد ایئرپورٹ روڈ پر واقع ہال میں جاری مذہبی تقریب میں ہوا، دہشت گردی کا نشانہ بننے والا ہال شہر کے عین وسط میں واقع ہے اور دھماکے کے بعد سیکڑوں افراد وہاں موجود تھے۔
وزارت صحت نے 50 افراد کے جاں بحق اور 80 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے اور شہر بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
ابتدائی طور پر واقعے کو خودکش دھماکا رپورٹ کیا گیا ہے تاہم سرکاری حکام یا سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
جائے دھماکا پر امدادی کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں، لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جب کہ تفتیشی ٹیموں نے جائے دھماکا سے شواہد اکٹھی کرلیے ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان