فلسطین نے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے پر امریکا کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کر دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطین نے امریکا کے خلاف اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے پر عالمی عدالت انصاف سے رجوع کر لیا ہے۔ فلسطینی حکومت نے عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے واپس تل ابیب لایا جائے۔
فلسطینی حکومت نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ویانا کنونشن 1967 میں طے پایا تھا کہ سفارت خانہ میزبان ملک کے کسی شہر میں قائم کیا جائے گا جب کہ مقبوضہ بیت المقدس ایک متنازعہ علاقہ ہے جس پر اسرائیلی فوج نے قبضہ کر رکھا ہے۔
فلسطینی حکومت نے درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کی بین الاقوامی قوانین برائے سفارت کاری کی خلاف ورزی پر سرزنش کی جانی چاہیے اور امریکا سمیت دیگر ممالک کو یروشلم منتقل ہونے والے اپنے سفارت خانوں کو واپس تل ابیب لانے کے لیے پابند کیا جائے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس دسمبر میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم دیا تھا جس پر رواں برس مئی میں عمل درآمد بھی کردیا گیا۔ امریکا کے بعد دیگر چند ممالک نے بھی سفارت خانے یروشلم منتقل کردیئے تھے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید