عسکریت پسند گروپ ’داعش‘ کے خلاف امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد نے اعتراف کیا ہے کہ سنہ2014ء کے بعد شام میں بمباری کے دوران 3300 عام شہری بھی مارے گئے۔
انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والےا دارے ’آبزرویٹری‘ کےمطابق امریکا کی قیادت میں قائم عالمی فوجی اتحاد کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا23 ستمبر 2014ء سے 2018ء کے آخر تک مشتبہ داعشی جنگجوؤں کے خلاف 29 ہزار 920 حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں3331 شہری جن میں826 بچے شامل ہیں مارے گئے۔ قبل ازیں اگست میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 1061 بتائی گئی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جولائی تک سولین کی ہلاکتوں کی 18 درخواستوں کی تحقیقات کی گئیں جب کہ 15 کو مسترد کردیا گیا۔ جولائی کے آخر تک سولین کی ہلاکتوں سے متعلق سامنے آنے والی 216 شکایات پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…