افغان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ عسکریت پسند تنظیم حقانی گروپ کے سربراہ جلال الدین حقانی طویل علالت کے بعد چل بسے ہیں۔ طالبان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ کئی برسوں سے علیل تھے۔ بیان میں ان کے لیے جہادیوں سے دعائے مغفرت کی اپیل کی گئی ہے لیکن ان کے مرنے کی تاریخ اور تدفین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
بیان میں ان کی موت کا اعلان اس طرح کیا گيا: ‘بڑے افسوس کے ساتھ ہم اپنے ایمان والے مجاہد افغانیوں اور وسیع اسلامی امت کو یہ اطلاع دیتے ہیں کہ معروف جہادی شخصیت، ممتاز عالم، مثالی جنگجو اور جہادیوں کے پیش رو، اسلامی امارات میں سرحد کے وزیر اور قائد کونسل کے رکن محترم الحاج مولائی جلال الدین حقانی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انّا للہ و انّا الیہ راجعون ۔’
جلال الدین حقانی افغانستان کے جنگجوؤں میں ممتاز اہمیت کے حامل رہے ہیں جن کی طالبان اور القاعدہ دونوں سے قربت تھی۔ انھوں نے القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو سنہ 1990 کی دہائی میں تربیتی کیمپ قائم کرنے میں تعاون کیا تھا۔ 11 ستمبر سنہ 2001 کے حملے کے بعد حقانی نے اپنے نیٹ ورک کی کمان اپنے بیٹے کے ہاتھوں میں سونپ دی تھی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…