بيانات

حضرت عثمانؓ عفت و سخاوت میں اسوہ تھے

نائب خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے اکتیس اگست دوہزار اٹھارہ کے بیان میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں حیا، عفت اور سخاوت میں سب کے لیے اسوہ و مثال یاد کیا اور صحابہ کرامؓ کے فضائل کے تذکرے کا مقصد اقتدا و اتباع قرار دیا۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالغنی بدری نے سورت البقرہ کی آیت: «فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا» کی تلاوت کرتے ہوئے کہا: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب کا تذکرہ اس لیے ہوتاہے کہ ہم ان کی سیرت کے اتباع کریں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو ستاروں سے تشبیہ دی جن کی پیروی کرکے لوگ اپنی راہ پاتے ہیں۔ ہدایت و رہ نمائی کے لیے سرگرداں افراد صحابہؓ ہی کی پیروی سے اپنے مقصد حاصل کرسکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: خاتم النبیین ﷺ کے صحابہ میں ایک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے جو انتہائی سخی اور فیاض آدمی تھے۔ انتہائی سخت حالات میں آپؓ کی مالی حمایت آج تک قابل تقلید اور مثالی ہے۔
دارالعلوم زاہدان کے سینئر استاذ نے کہا: حضرت عثمانؓ حیا، عفت، سخاوت اور عبادت میں مثالی تھے۔ آپؓ پوری رات تلاوت میں گزارتے اور آپ کی شہادت بھی اسی حالت میں واقع ہوئی۔ مسلمانوں کو چاہیے آپؓ کی خوبصورت خصوصیات کو اپنائیں تاکہ اللہ تعالی کے یہاں ان کی مقبولیت بڑھ جائے۔
انہوں نے مزید کہا: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالی کے احکام و دستورات کی اطاعت و اتباع ہی سے اس عظیم مقام پر پہنچے، ہم بھی فرمانبرداری ہی سے سعادت اور حیات طیبہ پاسکیں گے۔

کامیاب زندگی کیسے حاصل کریں؟
ناظم تعلیمات دارالعلوم زاہدان نے حیات طیبہ اور خوشبختی حاصل کرنے کی راہ حاضرین کے سامنے رکھتے ہوئے قرآن پاک کے حوالے سے کہا: اللہ تعالی نے قرآن میں نیک اعمال کو ایمان کے ساتھ مردوں اور عورتوں کی کامیابی کا راز بتایاہے۔ لہذا اللہ تعالی کے قوانین اور احکام کو نظرانداز کرنے سے سعادت نصیب نہیں ہوسکتی۔
انسانی زندگی کے تین مراحل کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا عبدالغنی بدری نے کہا: جب انسان پیدا ہوتاہے، وہ جانور کی طرح صرف کھاتا، پیتا اور سوتاہے۔ علما نے اس دور کو ’حیوانی‘ نام دیاہے۔ جب عمر بڑھ جاتی ہے، پھر وہ اپنی ترقی کا سوچتاہے کہ کیسے بہتر زندگی گزارے اور بہترین خوراک، سواری اور مکان حاصل کرے؛ اس مرحلے کو ’عقلانی‘ کہاجاتاہے۔ تیسرا مرحلہ ایمانی ہے؛ ایمان انسان کے لیے حدود کا تعین کرتاہے۔ شاید عقل کے لیے نکاح و زنا میں کوئی فرق نہ ہو، لیکن ایمان ان میں فرق ڈالتاہے۔ ایسے ہی مؤمن لوگ شریعت کی پیروی کرتے ہیں۔

خطاب کے آخر میں مولانا بدری نے حرمین شریفین سے حجاج کی واپسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید منگل چار ستمبر کو سفر حج سے واپس ہوجائیں گے۔ آپ کی مبارک عادت ہے کہ ایئرپورٹ سے سیدھا مسجد تشریف لے جاتے ہیں اور وہاں نماز پڑھ کر دعا کرائیں گے۔

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

3 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago