فریضہ حج کی ادائی کے دوران عازمین حج مقام عرفات میں واقع جبل الرحمہ کی زیارت کا شرف حاصل کرنے کی گہری تمنا رکھتے ہیں۔ مناسک حج شروع ہونے سے قبل جبل عرفات پر عازمین کا جم غفیر جمع ہوتا ہے جو یادگاری تصاویر بناتے اور وہاں سے تحائف خرید کرتے ہیں۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق جبل عرفات مکہ معظمہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے مگر اس کی اصل پہچان اس کے پہلو میں موجود میدان عرفات ہے۔ یہ پہاڑ مکہ اور طائف کو ملانے والی سڑکوں پر واقع ہے۔
جبل عرفات میں آنے والے حجاج کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس آخری خطبہ حجۃ الوداع کی یاد بھی تازہ کرتے ہیں جو آپ نے آخری حج کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا۔
جبل عرفات کی سطح ہموار اور کشادہ ہے تاہم اس کے اطرف میں بھاری بھرکم گول پتھر بھی موجود ہیں۔ ان میں سے بیشتر پتھروں کا رنگ سیاہ ہے۔ یہ پہاڑ محل وقوع کے اعتبار سے میدان عرفات کے مشرق میں ہے۔ پہاڑ کی لمبائی 300 اور قطر 640 میٹر ہے۔ زمین سے اس کی بلندی 65 میٹر ہے۔ جبل عرفات کے کئی دوسرے نام بھی مشہور ہیں جن میں جبل الال، جبل توبہ، جبل دعا اور جبل القرین زیادہ مشہور ہیں۔
سعودی عرب میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر شعبے کی طرف سے یہاں آنے والے زائرین کی ہرممکن رہ نمائی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مختلف زبانوں کے مترجم اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔اس جگہ آنے والوں کو بدعات سے روکنے اور قرآن وسنت کی تعلیماتی کے خلاف کسی قسم کی مذہبی سرگمی کی اجازت نہیں دی جاتی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…