افغانستان میں کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 58 ہوگئی ہے، اموات میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان دارالحکومت میں ووٹررجسٹریشن سینٹر کے باہر کھڑے عام شہریوں کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہے،52 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ 119 سے زائد زخمی ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق دوسرا دھماکا صوبے بغلان کے ووٹرز رجسٹریشن مرکز پر ہوا، جس میں 6 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے ہیں،دونوں دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں دھماکوں میں اب تک مجموعی طور پر 58 افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں جن میں 21 خواتین اور 5 بچے بھی شامل ہیں،یہ تمام لوگ2018ء کے عام انتخابات کےلئے اپنے ووٹ کے اندراج کے لئے عمارت کے داخلی دروازے پر کھڑے تھے کہ دھماکے ہوئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ہفتے کےد وران ووٹ رجسٹریشن مراکز پر اب تک 4 حملے ہوچکے ہیں ،عام انتخابات کے مطابق 2019ء میں صدارتی انتخابات بھی ہونا ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…