افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ماضی کو بھلا کر پاکستان سے مذاکرات کے خواہش مند ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت میں دوسری ’کابل کانفرنس‘ کا آغاز ہوگیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا کہ ماضی کو بھلا کر پاکستان سے مذاکرات کے خواہش مند ہیں اور نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔
افغان صدر نے طالبان کو مذاکرات اور کابل میں دفتر کھولنے کی بھی پیشکش کی۔ اشرف غنی نے کہا کہ طالبان خطے میں امن کے لئے مذکرات میں شریک ہوں اور ہتھیار ڈال کر حکومت کے ساتھ مل جل کر افغانستان کو بچائیں، کابل حکومت کے ساتھ تعاون کرنے والے طالبان اور ان کے اہلخانہ کو پاسپورٹ اور ویزا فراہمی کا عمل بھی شروع کردیا جائے گا، مذاکرات میں پیش رفت کی خاطر پرامن طالبان کے لیے کابل میں خصوصی دفتر بھی کھولا جائے گا جب کہ طالبان رہنماؤں پر عائد پابندیاں بھی اٹھالی جائیں گی، امن اب طالبان کے ہاتھوں میں ہے۔
واضح رہے کہ کابل کانفرنس میں 25 سے زائد ممالک کے مندوب اور مختلف تنظیموں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں جن میں اقوام متحدہ اور نیٹو بھی شامل ہیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…