افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ماضی کو بھلا کر پاکستان سے مذاکرات کے خواہش مند ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت میں دوسری ’کابل کانفرنس‘ کا آغاز ہوگیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا کہ ماضی کو بھلا کر پاکستان سے مذاکرات کے خواہش مند ہیں اور نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔
افغان صدر نے طالبان کو مذاکرات اور کابل میں دفتر کھولنے کی بھی پیشکش کی۔ اشرف غنی نے کہا کہ طالبان خطے میں امن کے لئے مذکرات میں شریک ہوں اور ہتھیار ڈال کر حکومت کے ساتھ مل جل کر افغانستان کو بچائیں، کابل حکومت کے ساتھ تعاون کرنے والے طالبان اور ان کے اہلخانہ کو پاسپورٹ اور ویزا فراہمی کا عمل بھی شروع کردیا جائے گا، مذاکرات میں پیش رفت کی خاطر پرامن طالبان کے لیے کابل میں خصوصی دفتر بھی کھولا جائے گا جب کہ طالبان رہنماؤں پر عائد پابندیاں بھی اٹھالی جائیں گی، امن اب طالبان کے ہاتھوں میں ہے۔
واضح رہے کہ کابل کانفرنس میں 25 سے زائد ممالک کے مندوب اور مختلف تنظیموں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں جن میں اقوام متحدہ اور نیٹو بھی شامل ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان