شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے مشرقی الغوطہ میں باغیوں کے زیرانتظام علاقوں پر اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 48 گھنٹوں کے دوران 250 عام شہریوں کے ماری جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سیکڑوں شہری ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔
انسانی حقوق گروپ آبزرویٹری کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2013ء میں اسی علاقے میں مبینہ کیمیائی حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد یہ اب تک کا دوسرا بڑاحملہ ہے جس میں سیکڑوں افراد کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔
پیر کے روز الغوطہ الشرقیہ کے علاقے پر بشار کی فوج کی جانب سے ہونے والے فضائی حملوں اور گولہ باری کے نتیجے میں اڑھائی سو شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں درجنوں بچّے شامل ہیں۔ کل منگل کو 106 افراد مارے گئے۔
شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق دمشق کے نزدیک محصور اس علاقے میں گزشتہ تین برسوں میں ایک دن کے اندر ہلاکتوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2013ء سے محصور الغوطہ الشرقیہ میں تقریبا 4 لاکھ افراد رہتے ہیں۔
شام کے بحران کے حوالے سے اقوام متحدہ کے علاقائی رابطہ کار بینوس مومیٹز کے مطابق “الغوطہ الشرقیہ میں شہریوں کی انسانی صورت حال کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے۔ مقامی آبادی کے اکثر لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ زیر زمین پناہ گاہوں میں ٹھہرے رہیں”۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…