اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ٹرمپ کے بیت المقدس سے متعلق فیصلے کے خلاف قرارداد پیش کی گئی تاہم امریکا نے اسے ویٹو کردیا۔
خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق بیت المقدس کے معاملے پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس نیویارک میں موجود ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوا جس میں ارکان ممالک کے مندوبین نے شرکت کی، اجلاس کے دوران مصر کی جانب سے قرارداد پیش کی گئی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیت المقد س سے متعلق فیصلے پر خدشات کا اظہار کیا گیا۔
قرارداد کے حق میں 14 ارکان نے ووٹ دیے تاہم امریکا نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے طاقت ور رکن ملک ہونے کا اختیار استعمال کیا اور قرارداد کو ویٹو کردیا۔
اجلاس میں موجود امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ آج اجلاس میں جو کچھ دیکھا وہ ہماری توہین ہے، 6 برس سے زائد عرصے میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امریکا نے اپنی ویٹو کی طاقت کو استعمال کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ویٹو کی طاقت سے امریکا نے اپنے استحکام اور دفاع کو مضبوط کیا ہے اور اقدام سے مشرق وسطی میں امن کے قیام میں امریکی کردار بھی بہتر ہوگا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان