عرب لیگ نے بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو خطرناک اورناقابل قبول قراردے دیا۔
مصرکے دارالحکومت قاہرہ میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے خلاف عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں 22 عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کی شرکت کی۔
اجلاس کے جاری اعلامیہ کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، امریکی فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اورامریکا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے۔
اجلاس میں عرب لیگ کے سربراہ احمد ابو الغيط نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو خطرناک اور ناقابل قبول بھی قراردیا جب کہ اس موقع پرلبنان کے وزیرخارجہ جبران باسل نے تجویز دی کہ ٹرمپ کےاس فیصلے پرعرب ممالک کو امریکا پر معاشی پابندیاں عائد کرنی چاہیئں۔ عرب لیگ کی جانب سے یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ امریکی صدرکے اس اقدام کواقوام متحدہ کے سیکیورٹی کاؤنسل کے پلیٹ فارم پرلے کرجایا جائے گا۔
واضح رہے کہ 2 روزقبل امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا تھا جس کے بعد دنیا بھرکے مختلف ممالک نے اس فیصلے کی مزمت کرتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ فیصلہ قراردے دیا ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان