یمن کی آئینی حکومت کا تختہ الٹنے والے حوثی باغیوں نے یمن کے سابق صدر اور اپنے اتحادی علی عبداللہ صالح کے قافلے پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا ہے۔
اس سے قبل پیپلز کانگریس کی قیادت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ علی عبد اللہ صالح بخیر ہیں اور ایک محفوظ مقام سے حوثیوں کے خلاف لڑائی کی قیادت کر رہے ہیں۔
دبئی سے نشریات پیش کرنے والے عربی نیوز چینل “الحدث” نے پیپلز کانگریس رہنماوں کے حوالے سے بتایا تھا کہ سابق صدر کی ہلاکت کی خبریں صرف افواہ ہیں۔
قبل ازیں یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی شیعہ باغیوں نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے مکان کو دھماکے سے اڑانے کی اطلاعات تھیں۔ اس کے بعد سابق صدر کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔
صنعاء کے مکینوں نے سوموار کو شہر کے وسط میں واقع معزول صدر کے مکان کو دھماکے سے اڑائے جانے کی اطلاع دی ہے۔ تاہم علی صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے ایک عہدہ دار نے اس اطلاع کی تردید کرتے ہوئے اس کو حوثیوں کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
صنعاء میں گذشتہ چھے روز سے علی صالح کے وفاداروں اور حوثی ملیشیا کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں اور حوثیوں کے خلاف لڑائی میں سابق صدر کے وفاداروں کی شکست کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔
دریں اثناء بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے کہا ہے کہ گذشتہ بدھ سے یمنی دارالحکومت میں حوثیوں اور صالح فورسز کے درمیان جاری لڑائی میں 125 افراد ہلاک اور 238 زخمی ہوگئے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…