ایران اور عراق کے سرحدی علاقوں میں خوفناک زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعاد 400 سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ 7ہزار 700 سے زائد زخمی اور سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اتوار کی رات ایران اور عراق کے سرحدی علاقوں میں آنے والے زلزلے کے باعث جانی نقصان بڑھتا جارہا ہے۔ امریکی ارضیاتی سوسائٹی ( یو ایس جی ایس) کی ویب سائٹ کے مطابق شدید زلزلے کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں کئی دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔
زلزلے میں زیادہ جانی اور مالی نقصان ایران میں ہوا ہے جہاں عراق سے ملحقہ اس کے 14 صوبے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام نے سرکاری طور پر 407 افراد کی ہلاکت اور 6 ہزار 700 کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ اس کے علاوہ سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس زلزلے سے 87 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب عراق میں 6 افراد کی ہلاکت اور 50 کے قریب زخمیوں کی تصدیق کی جاچکی ہیں۔
ایران میں زلزلے کے بعد 118 جھٹکے (آفٹر شاکس) محسوس کیے گئے ہیں اور مزید کا خطرہ ہے۔ زلزلے کی وجہ سے متعدد عمارتیں اور مکانات زمین بوس ہوگئے جب کہ بہت سے دیہات ہی صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کو باہر نکالا جارہا ہے۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات آنے والی اس قدرتی آفت کا مرکز عراق کے علاقے سلیمانیہ میں تھا جس کی گہرائی 33 کلو میٹر تھی۔ زلزلہ اس قدر شدید نوعیت کا تھا کہ اسے عراق کے دارالحکومت بغداد اور پڑوسی ممالک میں بھی محسوس کیا گیا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…