عرب ممالک میں متحدہ امریکہ کی مشرق وسطی پالیسیوں کے خلاف رد عمل میں اضافے کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔
عرب سنٹر واشنگٹن اور عرب سنٹر فار ریسرچ اینڈ پالیسی سٹیڈیز نے 8 عرب ملکوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ملک کی خارجہ پالیسیوں کے حوالے سے سر انجام دیے گئے ایک سروے کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ جس کے مطابق 61 فیصد عرب باشندے امریکی خارجہ پالیسیوں سے نالاں ہیں۔
58 فیصد شرکاء سروے نے ٹرمپ کے حوالے سے منفی خیالات کا اظہار کیا ہے تو 56 فیصد کے مطابق ٹرمپ مسلمان مخالف لیڈر ہیں۔
محض 17 فیصد نے ٹرمپ کی صدارت میں عالم عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں بہتری آنے کا کہا ہے۔ اس نظریے کے حامل لوگوں کی ایک بڑی اکثریت کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…