شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ادلب شہر میں سرکاری فوج اور اس کی معاون روسی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 150 عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
شامی اپوزیشن کے قائم کردہ ریسکیویونٹ کے ایک رکن سالم ابو العزم نے بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران روسی فوج اور اسدی فوج کے جنگی طیاروں کی جانب سے ادلب میں بڑے پیمانے پر بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ڈیڑھ سو عام شہری مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ میں یہ ایک ہفتہ ہلاکتوں کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز واقع ہوا ہے۔
سالم ابو العزم نے بتایا کہ بمباری کے دوران 152 افراد لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں جب کہ 279 شہریوں کو بچا لیا گیا۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید