شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ادلب شہر میں سرکاری فوج اور اس کی معاون روسی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 150 عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
شامی اپوزیشن کے قائم کردہ ریسکیویونٹ کے ایک رکن سالم ابو العزم نے بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران روسی فوج اور اسدی فوج کے جنگی طیاروں کی جانب سے ادلب میں بڑے پیمانے پر بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ڈیڑھ سو عام شہری مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ میں یہ ایک ہفتہ ہلاکتوں کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز واقع ہوا ہے۔
سالم ابو العزم نے بتایا کہ بمباری کے دوران 152 افراد لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں جب کہ 279 شہریوں کو بچا لیا گیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…