In this photo taken on Wednesday, Oct. 14, 2015, smoke rises after shelling by Syrian army in Jobar, Damascus, Syria. Backed by Russian airstrikes, the Syrian army has launched an offensive in central and northwestern regions. (Alexander Kots/Komsomolskaya Pravda via AP) RUSSIA OUT
شام میں بشار کی فوج کی جانب سے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران جوبر اور عین ترما کے علاقوں پر بم باری میں شدت کے بعد مشرقی غوطہ میں روس اور فیلق الرحمن تنظیم کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ اپنی موت آپ مر گیا ہے۔
اگرچہ جمعے کی شب نو بجے سے روسی ضمانت کے ساتھ سرکاری فوج اور شامی اپوزیشن کے درمیان جنگ بندی کا نفاذ کیا جانا تھا تاہم فائر بندی کا اطلاق ہونے کے وقت کے بعد بشار فوج کی جانب سے جارحیت دیکھنے میں آئی۔ سرکاری فوج نے جوبر اور عین ترما کے درمیان کئی مقامات کو زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ جوبر کے وسطی علاقے میں توپ کے پانچ گولے بھی گرے جن میں ایک گولا زہریلی کلورین گیس سے بھرا ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں چار شہری دم گھٹنے کی حالت کا شکار ہو گئے۔
اس دوران جوبر کے اطراف میں فیلق الرحمن تنظیم کی سرکاری فوج اور اس کے ہمنوا مسلح عناصر کے ساتھ وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں۔
اس سے قبل روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ غوطہ دمشق میں فیلق الرحمن گروپ کے ساتھ فائر بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت جوبر اور مشرقی غوطہ میں جنگ بندی کا اطلاق ہو گا۔ معاہدے میں مشرقی غوطہ کے علاقوں کا محاصرہ ختم کیے جانے پر بھی اتفاق رائے ہوا۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید