Categories: عالم اسلام

’’تل زعتر‘‘ قتل عام، فلسطینیوں کے زخم آج بھی تازہ ہیں!

لبنان کے سرحدی علاقے تل الزعتر میں سنہ1976ء کو فلسطینی شہریوں کے مسلسل 52 دن تک جاری رہنے والے والے محاصرے، 72 حملوں میں 55 ہزار گولوں کی بارش اور نام نہاد مذاکراتی کوششوں کی آڑ میں فلسطینیوں کے قتل عام کو آج 41 سال ہوگئے ہیں۔ تل الزعتری میں فلسطینی شہریوں کا جس بے رحمی کے ساتھ قتل عام کیا گیا، فلسطینی قوم اسے بھی فراموش نہیں کرسکے گی۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مطابق اکتالیس سال قبل لبنان میں ’’تل الزعتری‘‘ نامی پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی معاونت کے ذریعے نہتے فلسطینی پناہ گزینوں کے قتل عام کے چونکا دینے والے اثرات آج بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تل الزعتری قتل عام کے دوران شہید ہونے والے دسیوں فلسطینی شہداء کو آج تک باضابطہ قبرستان میں تدفین نہیں کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 1976ء کو لبنان میں تل الزعتری کے مقام پر اسرائیل نواز لبنانی دائیں بازو کے شدت پسندوں نے 52 روز تک فلسطینی پناہ گزین کیمپ کا محاصرہ جاری رکھتے ہوئے کیمپ کی 60 ہزار سے زاید آبادی پر 55 ہزار بم برسائے تھے جس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی پناہ گزین بچے، عورتیں اور مرد شہید ہوگئے تھے۔
بارہ اگست 2017 کو اس المناک واقعے کو 41 سال پورے ہوگئے مگرچار دہائیاں قبل ہونے والے قتل عام کی ہولناکیاں آج بھی تازہ ہیں۔
جنیوا میں صدر دفتر سے جاری ’یورو مڈل ایسٹ آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تل الزعتری کیمپ میں فلسطینیوں کے قتل عام کے حقیقی اعدادو شمار کبھی سامنے نہیں آئیں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسیوں شہداء آج تک قبروں میں دفن نہیں کیے جاسکے ہیں۔
تل الزعتری کیمپ میں چالیس سال قبل ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں سیکڑوں بے گناہ شہری مارے گئے۔ مقامی آبادی کے پاس شہریوں کو دفن کرنے کے لیے جگہ نہیں تھی۔ درجنوں شہداء کو ایک ایک میٹر سے بھی کم گہرے گڑھے کھود کرانہیں دفن کیا گیا۔ بعض کو قبرستانوں کے بجائے کار پارکننگ کے لیے مختص مقامات اور دیواروں کے احاطوں میں دفن کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تل زعتری قتل عام کےتین ماہ کے بعد کیمپ میں ایک عارضی قبرستان کا پتا چلایا گیا جس میں 80 افراد کو درگور کیا گیا تھا۔
تل الزعتری پناہ گزین کیمپ میں فلسطینیوں کے قتل عام کے مختلف اعدادو شمار بیان کیے جاتے ہیں۔ بعض نے ہلاکتوں کی تعداد 1500 بیان کی ہے۔ بعض 2000 بتاتے ہیں جب کہ اس جارحیت میں کم سے کم 4 ہزار 280 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا تھا۔

baloch

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago