یہودی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بدستور جاری ہے تاہم گزشتہ روز 60 انتہا پسند یہودیوں نے پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی۔
یہودی آباد کاروں نے مسجد میں گھس کر نہ صرف اشتعال انگیز نعرے لگائے بلکہ تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات بھی ادا کرتے رہے۔ اس موقع پر فلسطینی شہریوں کو نماز کیلیے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، صہیونی پولیس اہلکار انتہا پسندوں کو مراکشی دروازے کے راستے قبلہ اول میں داخل کرتے اور باب السلسلہ سے باہر نکالتے رہے۔
دریں اثنا فلسطین میں انسانی حقوق اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جولائی کے مہینے میں اسرائیلی حکام کی جانب سے 170 فلسطینیوں کو بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت جیلوں میں ڈالا گیا ہے، اطلاعات کے مطابق اسٹڈی سینٹر کے ترجمان ریاض الاشقر نے بتایا کہ جولائی میں جون کی نسبت انتظامی حراست کی سزاؤں میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہےکہ صہیونی فوج نے یہودی آباد کاروں کی موجودگی کے دوران تمام فلسطینیوں کے قبلہ اول میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی تھی۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…