افغانستان میں مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دھماکا افغان شہر ہرات کی جوادیہ مسجد میں ہوا جب لوگ نماز کی ادائیگی میں مصروف تھے جس کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔ افغان وزارت داخلہ کے مطابق دھماکا ممکنہ طور پر کار بم کے ذریعے کیا گیا، جس کے بعد دوسرے حملہ آور نے نمازیوں پر فائرنگ کردی۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ خیال رہے کہ ہرات کی سرحد ایران کے ساتھ ملتی ہے اور عام طور پر یہ افغانستان کے پر امن ترین شہروں میں سے ایک ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…