زاہدان (سنی آن لائن) ایرانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے متعدد بلوچ سیاسی و سماجی رہ نماوں اور اکیڈمک شخصیات نے جامع مسجد مکی میں شیلڈ پیش کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید کا شکریہ ادا کیا۔
ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق، درجنوں بلوچ سیاسی و سماجی رہ نماوں اور جامعات سے تعلق رکھنے والی اکیڈمک شخصیات نے ممتاز سنی رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کو سنی برادری میں اتحاد لانے اور انتخابات میں مناسب موقف اختیار کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔
رہ نماوں نے منگل کی شام جامع مسجد مکی میں شیلڈ اور یادگار میں ایک تختی پیش کی جہاں مولانا اعتکاف میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ شیلڈ ایک تقریب میں پیش کی گئی۔
اس پروقار تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر عزیزاللہ مجاہد، پروفیسر سیستان بلوچستان یونیورسٹی نے تعریفی تختی کا متن پڑھا اور بعد میں ڈاکٹر محمد اریش اور ڈاکٹر رہبر رحیمی نے مولانا عبدالحمید کو شیلڈ پیش کی۔ ڈاکٹر حبیب اللہ سالارزہی، ڈاکٹر عبدالشکور کرد، حاجی اسماعیل ریکی اور ڈاکٹر امان اللہ تمندہ رو سمیت اعلی پایے کے متعدد پروفیسرز اور بعض علمائے کرام اس محفل میں شریک تھے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے بلوچ رہ نماوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایران کی سنی برادری کی ’ہم آہنگی و یکجہتی‘ کو اللہ تعالی کی توفیق اور عوام کی محنت و تدبیر کا نتیجہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا: حالیہ انتخابات میں اہل سنت نے اپنے اتحاد اور وسیع پیمانے پر شرکت سے ملک میں اپنی عزت اور مقبولیت میں اضافہ کردیا۔ اب سب پر یہ واضح ہوچکاہے کہ اہل سنت برادری جس امیدوار کے ساتھ کھڑی ہو ، اس کی کامیابی کے امکانات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: حکام پر یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ سنی برادری صرف اپنے قانونی مطالبات کو چاہتی ہے اور ان کا مقصد ملازمتوں اور عہدوں کی تقسیم میں میرٹ اور قومیت پر توجہ دینا ہے۔
انہوں نے کہا: اس انتخابات کا سب سے اہم پیغام جو تمام سیاسی جماعتوں اور رجحانات تک پہنچ گیاہے وہ دباو اور تنگ نظری کی پالیسی سے عوام کی بیزاری ہے۔ لہذا سب کو اپنی پالیسیوں اور منصوبوں میں نظر ثانی کرنی چاہیے۔
بلدیاتی انتخابات کے بعد زاہدان میں کامیاب ہونے والے بلاک کو ’پروفیشنل اور تجربہ کار‘ یاد کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: الحمدللہ ہمارے معاشرے میں اتنی اعلی ظرفی پائی جاتی ہے کہ ہم اپنے صوبے کی خوشحالی کے لیے بلوچ، سیستانی اور دیگر لسانی و مسلکی گروہوں کو اکٹھا کرسکیں۔
یاد رہے حالیہ صدارتی انتخابات میں ڈاکٹر روحانی کامیاب ہوئے جنہیں سنی برادری کی حمایت بھی حاصل تھی۔ ایران کی سنی برادری کی آبادی پندرہ سے بیس ملین کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ زاہدان بلوچستان کا صدرمقام ہے جہاں بلوچ برادری کی جانب سے پیش کردہ گیارہ رکنی بلاک نے بلدیاتی الیکشن میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس بلاک میں شیعہ برادری کے افراد بھی شریک ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…