سراوان (سنی آن لائن) ایرانی آئین کی بعض شقوں کی اصلاح و تبدیلی پر زور دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے مطالبہ کیا اہل سنت کو بھی صدارتی انتخابات میں امیدوار بننے کی قانونی اجازت ہونی چاہیے۔
’سنی آن لائن‘ کے نامہ نگاروں کے مطابق، ممتاز سنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بیس اپریل دوہزار سترہ کی شام کو ضلع سراوان کے دینی مدارس کی مشترکہ تقریب دستاربندی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اختلاف و تفرق کسی بھی گروہ کے حق میں نہیں ہے۔ ایران کی سنی برادری اتحاد و امن کی راہ پر گامزن ہے اور حکمت و قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے جائز مطالبات کے کیس کی پیروی کرتی چلی آرہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: تمام ایرانیوں بشمول شیعہ و سنی میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے خیال میں آئین کی اس شق کو تبدیل کرنی چاہیے جو اہل سنت کو صدارتی الیکشن میں امیدوار بننے کے لیے نااہل قرار دیتی ہے۔ حکمت و منطق کے ساتھ یہ تبدیلی لانی چاہیے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے واضح کرتے ہوئے کہا: آئین آسمانی وحی نہیں، یہ چند انسانوں کے ہاتھوں مرتب ہوا ہے۔ اس آئین میں کچھ ایسی شقیں ہیں جو تغییرطلب ہیں۔ اہل سنت کی صدارتی الیکشن کے لیے امیدواری پر پابندی بھی ان میں شامل ہے۔
مولانا عبدالحمید نے آخر میں کہا: ایرانی قوم، چاہے ان کا تعلق کسی بھی قومیت یا مذہب سے ہو اور ان کی سوچ جو بھی ہو، سب کو قانونی لحاظ سے برابر کے حقوق حاصل ہونا چاہیے اور عہدوں کی تقسیم میں کوئی امتیازی رویہ نہیں ہونا چاہیے۔ امید ہے اعلی حکام اس پر مزید توجہ دیں گے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…